← Back to Articles
عید کا دوسرا دن: سستی نہیں، رشتوں کی تازگی
عبداللہMarch 22, 20264 views
عید کا پہلا دن روایتی گہما گہمی میں گزر گیا، لیکن اصل عید تو وہ ہے جو ہمارے دلوں میں اپنوں کے لیے محبت پیدا کر دے۔ عید کے دوسرے اور تیسرے دن کو صرف "آرام" کی نظر کرنے کے بجائے بچوں کو صلہ رحمی اور سماجی میل جول کا عملی سبق دینے کے لیے استعمال کریں۔
عید کے بقیہ ایام کو یادگار بنانے کے 5 طریقے:
1. دور کے رشتہ داروں کی طرف سفر: عید کے دوسرے دن ان رشتہ داروں کے گھر جائیں جہاں روزانہ جانا ممکن نہیں ہوتا۔ بچوں کو بتائیں کہ "خون کے رشتوں" کو جوڑنا اللہ کو کتنا پسند ہے۔ یہ سفر ان کے لیے ایک پکنک بھی ہوگا اور تربیت بھی۔
2. عیدی کا صحیح استعمال سکھائیں: اب جب بچوں کے پاس عیدی جمع ہو چکی ہے، تو ان کے ساتھ بیٹھ کر ایک چھوٹا سا بجٹ بنائیں۔ انہیں سکھائیں کہ کچھ رقم اپنی ضرورت پر خرچ کریں، کچھ بچت (Saving) کریں اور کچھ حصہ کسی غریب بچے کو عیدی کے طور پر دیں۔
3. گھریلو محفل اور قصہ گوئی: رات کے وقت گھر کے بڑے (دادا، دادی، نانا، نانی) بچوں کو اپنے بچپن کی عیدوں کے قصے سنائیں۔ یہ "نسلوں کا ملاپ" بچوں میں اپنی روایات اور بزرگوں کے احترام کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔
4. فون کے بجائے آمنے سامنے ملاقات: بچوں کو ترغیب دیں کہ وہ اپنے دوستوں کو صرف میسج نہ کریں بلکہ ان سے ملنے جائیں یا انہیں گھر بلائیں۔ حقیقی گفتگو (Face to Face) سماجی مہارتیں (Social Skills) سیکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
5. شکر گزاری کی مشق: عید کے دوسرے دن بچوں سے پوچھیں کہ انہیں اس عید پر سب سے اچھی بات کیا لگی؟ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا تذکرہ انہیں مثبت سوچ کا حامل بنائے گا۔
آج کی بات
عید صرف ایک دن کا نام نہیں بلکہ یہ ایک رویہ ہے جو پورا سال ہمارے ساتھ رہنا چاہیے۔ رشتوں کی مٹھاس تبھی باقی رہتی ہے جب ہم انہیں وقت دیتے ہیں۔ اپنے بچوں کو سکھائیں کہ انسانوں کی قدر کپڑوں اور جوتوں سے کہیں زیادہ اہم ہے۔
تحریر کو عمل کی نیت سے پڑھیں اور اپنے عزیز و اقارب اور مقامی گروپس میں شیئر کیجئے ہو سکتا ہے آپ کی تھوڑی سی محنت یا کوشش کسی کی زندگی بدلنے کا ذریعہ بن جائے
Share: