← Back to Articles

کرنل قذافی کی کہانی

عبداللہMarch 29, 202615 views
چوہدری شجاعت اپنی کتاب "سچ تو یہ ہے" میں لکھتے ہیں کہ پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے بعد انہیں خصوصی طور پر لیبیا بھیجا گیا تو کرنل قذافی نے اپنے خیمے میں کھڑے ہوکر استقبال کیا، اور یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ 200 بلین ڈالر کی دولت کے مالک کے خیمے میں افریقہ کی سخت گرمی میں نہ اے سی تھا اور نہ پنکھا۔ چوہدری شجاعت نے قذافی کو بتایا کہ لاہور میں ان کے گھر کے قریب ایک بہت بڑا سٹیڈیم آپ کے نام پر قذافی سٹیڈیم کہلاتا ہے، اور اگر آپ پاکستان تشریف لائیں تو لاکھوں پاکستانی آپ کو دیکھنے اور سننے کے لیے امڈ آئیں گے۔ یہ وہ قذافی تھے جو خیمے میں سوتے تھے مگر دلوں پر راج کرتے تھے، جن کے نام کا سٹیڈیم پاکستان میں تھا مگر مغرب کی نظر میں وہ ایک خطرہ تھے جسے بالآخر اپنے ہی ملک کی سڑک پر گھسیٹ کر قتل کردیا گیا۔ کرنل قذافی کے لیبیا میں ہر شہری کو مفت بجلی، مفت تعلیم اور مفت علاج ملتا تھا، بغیر سود کے قرض دیا جاتا تھا، ہر نوشادی شدہ جوڑے کو گھر بنانے کے لیے پچاس ہزار ڈالر اور ہر نومولود کی ماں کو پانچ ہزار ڈالر مفت دیے جاتے تھے۔ گاڑی خریدنے پر پچاس فیصد سبسڈی، پٹرول محض چالیس روپے فی لیٹر، شراب اور جوئے پر مکمل پابندی، پچاسی فیصد شرح خواندگی اور ایک سو پچاس ارب ڈالر سے زائد اثاثوں کے ساتھ لیبیا پر کوئی بیرونی قرض نہیں تھا۔ یہ وہی قذافی تھے جنہیں مغربی میڈیا نے ڈکٹیٹر اور ظالم کہہ کر پیش کیا اور نیٹو کے بموں سے اُن کا ملک تباہ کردیا گیا، آج وہی لیبیا خانہ جنگی، غربت اور انتشار کا شکار ہے۔ سوال یہ ہے کہ جمہوریت کے نام پر جو "آزادی" لیبیا کو ملی، کیا وہ قذافی کے اُس دور سے بہتر ہے جب عوام کو مفت گھر اور سستا پٹرول ملتا تھا؟ کیا ابھی بھی مسلم ممالک کو سمجھ نہیں آرہی کہ مغرب کیوں چند مسلم ممالک کے خلاف کاروائیاں کر رہا ہے؟ چند مسلم ممالک کے سربراہان اور جرنیلوں کی تعریفوں کے پل کیوں باندھے جا رہے ہیں؟ چند مسلم ممالک کو کیوں آپس میں لڑایا جارہا ہے؟ مغرب کبھی بھی مسلم ممالک کو طاقتور نہیں بننے دے گا۔۔۔
Share: