← Back to Articles
فقیروں کے بھیس میں
ادب

فقیروں کے بھیس میں

مولانا جمیل الرحمٰن عباسی16 views
حصولِ علم کے لیے انوکھی قربانی: امام احمد بن حنبل اور بقی بن مخلد کا ایمان افروز واقعہ علمِ حدیث کا حصول اور ہمارے اسلاف کی قربانیاں تاریخ کا وہ سنہرا باب ہیں جو آج کے دور کے طلبہ کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ایسا ہی ایک روح پرور اور سبق آموز واقعہ امام احمد بن حنبل اور ان کے اندلسی شاگرد امام بقی بن مخلد کا ہے، جنہوں نے کڑے وقت میں بھی علم کی شمع کو بجھنے نہیں دیا۔ جب امام احمد بن حنبل پر پابندیاں عائد تھیں حضرت سیدنا امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے ایک نامور شاگرد حضرت سیدنا بقی بن مَخلَد اندلسی رحمۃ اللہ علیہ گزرے ہیں۔ وہ جس وقت اندلس (اسپین) سے طویل اور کٹھن سفر طے کر کے بغداد پہنچے، تو انہیں ایک مایوس کن خبر ملی۔ انہیں معلوم ہوا کہ حکومتِ وقت کی طرف سے امام احمد بن حنبل پر سخت پابندیاں عائد ہیں (وہ کہیں مدرسہ کھول کر طلباء کو حدیث نہیں پڑھا سکتے، ان کے پاس ہر طرح کا اجتماع ممنوع ہے اور ملاقات پر بھی پابندی ہے)۔ یہ سن کر حضرت بقی بے حد غمگین ہوئے، تاہم انہوں نے ہمت نہ ہاری اور کسی نہ کسی طرح امام احمد بن حنبل تک رسائی حاصل کر ہی لی۔ استاد اور شاگرد کے درمیان مکالمہ جب دونوں کی ملاقات ہوئی تو امام احمد بن حنبل نے اندلس سے آئے اس پیاسے مسافر کی حالت دیکھ کر فرمایا: "مجھے تمہارا احساس ہے اور مجھے افسوس بھی ہے کہ تم اتنے دور سے سفر کر کے آئے ہو اور میں (حالات کے باعث) تمہاری علمی خدمت نہیں کر سکتا۔ ان حالات میں اگر میں نے تمہیں پڑھایا، تو میرے لیے بھی مسائل پیدا ہوں گے اور تمہارے لیے بھی۔" فقیر کا بھیس بدل کر علمِ حدیث کا حصول حضرت بقی بن مخلد نے کچھ دیر غور و فکر کیا اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ اور حبِ حدیث میں ایک ایسا انوکھا طریقہ سوچا جس نے تاریخ رقم کر دی۔ انہوں نے امام صاحب سے عرض کیا: "حضرت! میں روزانہ ایک بھکاری (فقیر) کی صورت میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا کروں گا۔ آپ مجھے روزانہ صرف ایک حدیث بھی سنا دیا کریں تو میرے لیے کافی ہے۔" حضرت امام احمد بن حنبل نے ان کے شوق اور خلوص کو دیکھتے ہوئے اس تجویز کو منظور فرما لیا۔ روزانہ کا معمول اور طریقہ کار حضرت بقی نے علم کی پیاس بجھانے کے لیے درج ذیل طریقہ اختیار کیا: رہائش کا انتظام: سب سے پہلے بغداد میں ایک مکان کرائے پر لیا۔ فقیرانہ روپ: روزانہ ایک ہاتھ میں لاٹھی پکڑتے اور سر پر فقیروں والا کپڑا باندھ لیتے۔ خفیہ قلم و کاغذ: لکھنے کے لیے کاغذ اور قلم اپنی آستین میں چھپا لیتے۔ صدا لگانا: دوسرے ہاتھ میں کاسہ (کشکول) پکڑتے اور امام صاحب کے دروازے پر جا کر آواز لگاتے: "اللہ کے نام پر کچھ محتاج کو دے دو بابا!" جیسے ہی امام احمد بن حنبل ان کی آواز سنتے، دروازہ کھولتے اور بقی بن مخلد اندر داخل ہو جاتے۔ امام صاحب فوراً دروازہ بند کرتے اور انہیں دو یا تین احادیث لکھوا دیتے۔ صبر کا پھل اور امام احمد کا خراجِ تحسین اس خفیہ اور انوکھے طریقے سے حضرت بقی بن مخلد نے امام احمد بن حنبل سے 300 سے زائد احادیث کا ذخیرہ جمع کر لیا۔ کچھ عرصے بعد امام احمد بن حنبل کی آزمائش کا وہ کٹھن دور ختم ہوا، پابندیاں ہٹیں اور وہ دوبارہ علانیہ درس دینے لگے۔ اب حضرت بقی کے ساتھ ساتھ دیگر طلبہ بھی ان سے کھل کر استفادہ کرنے لگے۔ امام احمد بن حنبل اکثر اپنے اس مخلص شاگرد کی قربانی کو یاد کرتے ہوئے دوسرے طلبہ کے سامنے فرمایا کرتے تھے: "صحیح معنوں میں طالب علم (علم کا پیاسا) اگر کوئی ہے، تو وہ صرف بقی بن مخلد ہیں۔" حوالہ جات (References) سیر اعلام النبلاء (امام ذہبی) صفحات من صبر العلماء (شیخ عبدالفتاح ابو غدہ)
Share: